(١٨٠٩٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ لاَ یُغِیرُ حَتَّی یُصْبِحَ لَیْسَ بِتَحْرِیمٍ لِلإِغَارَۃِ لَیْلاً وَلاَ نَہَارًا وَلاَ غَارِّینَ فِی حَالٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَکِنَّہُ عَلَی أَنْ یَکُونَ یُبْصِرُ مَنْ مَعَہُ کَیْفَ یُغِیرُونَ احْتِیَاطًا مِنْ أَنْ یُؤْتَوْا مِنْ کَمِینٍ أَوْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُونَ وَقَدْ یَخْتَلِطُ الْحَرْبُ إِذَا أَغَارُوا لَیْلاً فَیَقْتُلُ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ بَعْضًا قَدْ أَصَابَہُمْ ذَلِکَ فِی قَتْلِ ابْنِ عَتِیکٍ فَقَطَعُوا رِجْلَ أَحَدِہِمْ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ أَمَرَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْغَارَۃِ عَلَی غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ یَہُودَ فَقَتَلُوہُ ۔
قَتْلُ أَبِی رَافِعٍ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَیُقَالُ سَلاَّمُ بْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ ۔ [صحیح ]
(١٨٠٩٩) امام شافعی (رح) حضرت انس کی روایت میں فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے لیکن حملہ دن و رات کے کسی وقت بھی کرنا جائز ہے حرام نہیں ہے اور حالت غفلت میں بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن احتیاط کی غرض سے کبھی حالت غفلت میں بھی حملہ کرتے اور رات کو حملہ اس لیے نہ کرتے کہ کہیں مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کر بیٹھیں۔ جیسے ابن عقیل کے قتل میں ہوا کہ انھوں نے اپنے ساتھی کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو کئی یہودیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جیسے ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق جس کو سلام بن ابی الحقیق بھی کہا جاتا تھا۔