(١٨٠٩٨) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَیْبَرَ فَانْتَہَی إِلَیْہَا لَیْلاً وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا طَرَقَ قَوْمًا لَمْ یُغِرْ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِنْ لَمْ یَکُونُوا یُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَیْہِمْ حِینَ یُصْبِحُ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَکِبَ وَرَکِبَ الْمُسْلِمُونَ وَخَرَجَ أَہْلُ الْقَرْیَۃِ وَمَعَہُمْ مَکَاتِلُہُمْ وَمَسَاحِیہِمْ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔
قَالَ أَنَسٌ : وَإِنِّی لَرِدْفٌ لأَبِی طَلْحَۃَ وَإِنَّ قَدَمِی لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٠٩٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر رات کے وقت پہنچے، لیکن جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم کے پاس رات کے وقت آتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں فرماتے تھے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کی آواز سنتے تو حملہ سے رک جاتے۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتے تو صبح کے وقت ان پر حملہ کردیتے۔ جب صبح ہوئی تو آپ اور مسلمان سوار ہوئے۔ بستی والے نکلے، ان کے پاس زرعی سازو سامان تھا۔ جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لشکر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح اچھی نہیں ہوتی۔ انس کہتے ہیں : میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا تو میرے پاؤں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کے ساتھ لگ رہے تھے۔