(١٨١٠٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ قَالَ : فَعَانَقَہُ سِلْکَانُ بْنُ سَلاَمَۃَ وَقَالَ اقْتُلُونِی وَعَدُوَّ اللَّہِ فَلَمْ یَزَالُوا یَتَخَلَّصُونَ إِلَیْہِ بِأَسْیَافِہِمْ حَتَّی طَعَنَہُ أَحَدُہُمْ فِی بَطْنِہِ طَعْنَۃً بِالسَّیْفِ خَرَجَ مِنْہَا مُصْرَانُہُ وَخَلَصُوا إِلَیْہِ فَضَرَبُوہُ بِأَسْیَافِہِمْ وَکَانُوا فِی بَعْضِ مَا یَتَخَلَّصُونَ إِلَیْہِ وَسِلْکَانُ مُعَانِقُہُ أَصَابُوا عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ فِی وَجْہِہِ أَوْ فِی رِجْلِہِ وَلاَ یَشْعُرُونَ ثُمَّ خَرَجُوا یَشْتَدُّونَ سِرَاعًا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِجُرْفِ بُعَاثٍ فَقَدُوا صَاحِبَہُمْ فَرَجَعُوا أَدْرَاجَہُمْ فَوَجَدُوہُ مِنْ وَرَائِ الْجُرْفِ فَاحْتَمَلُوہُ حَتَّی أَتَوْا بِہِ أَہْلَہُمْ مِنْ لَیْلَتِہِمْ ۔
وَذَکَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ قَالَ وَأُصِیبَ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ مُعَاذٍ فَجُرِحَ فِی رَأْسِہِ وَرِجْلِہِ أَصَابَہُ بَعْضُ أَسْیَافِنَا۔ وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ ۔
(١٨١٠٣) موسیٰ بن عقبہ اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سلکان بن سلامہ نے اس سے معانقہ کیا اور اس نے کہا : تم مجھے اور اللہ کے دشمن کو قتل کر ڈالو وہ اسے اپنی تلواروں سے چھڑواتے رہے حتیٰ کہ ان میں سے ایک نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی۔ اس کی رگیں باہر آگئیں۔ پھر انھوں نے اسے تلوار سے قتل کردیا جب وہ اسے چھڑوا رہے تھے اور سلکان نے اس کی گردن پکڑی ہوئی تھی تو عباد بن بشر کے چہرے یا ٹانگ میں زخم آگیا۔ انھیں اس کی خبر نہیں تھی۔ پھر وہ جلدی سے بھاگ نکلے۔ جب جرفِ بعاث پر پہنچے تو اپنے ساتھی کو گم پایا۔ وہ الٹے پاؤں پلٹے اور اسے جرف کے پیچھے پایا۔ پھر اسے اٹھایا اور رات کے وقت اپنے گھر پہنچے۔