(١٨١١٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّقَ بَعْضَ نَخْلِ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَعَ بَعْضًا وَقِیلَ فِی ذَلِکَ شِعْرٌ
وَہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ
حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لاَ شَیْئَ فِیہَا
وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِیَۃٌ تَفُورُ
[صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨١١٣) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کی بعض کھجوروں کے درخت جلا دیے اور بعض کاٹ دیے اس بارے میں یہ شعر بھی کہا گیا :
بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہوگیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔