(١٨١٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا أَمْسَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ وَالأَسَارَی مَحْبُوسُونَ بِالْوَثَاقِ بَاتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَاہِرًا أَوَّلَ اللَّیْلِ فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَکَ لاَ تَنَامُ وَقَدْ أَسَرَ الْعَبَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : سَمِعْتُ أَنِینَ عَمِّی الْعَبَّاسِ فِی وَثَاقِہِ ۔ فَأَطْلَقُوہُ فَسَکَتَ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
[ضعیف ]
(١٨١٤٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : بدر کے دن شام کے وقت جب قیدیوں کو زنجیروں سے باندھا جا رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کا پہلا حصہ بیدار رہ کر گزارا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ سو کیوں نہیں رہے اور عباس کو ایک انصاری نے قیدی بنا رکھا تھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے چچا عباس کے رونے کی آواز سنی ہے، انھوں نے اس کو کھول دیا۔ وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے۔