hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18152

.

سنن البيهقي

18152
Sunan Al Bayhaqi
(١٨١٤٦) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَۃَ قَالَ : قُدِمَ بِالأُسَارَی حِینَ قُدِمَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ وَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَ آلِ عَفْرَائَ فِی مَنَاحِہِمْ عَلَی عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَیْ عَفْرَائَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ سَوْدَۃُ فَوَاللَّہِ إِنِّی لَعِنْدَہُمْ إِذْ أُتِینَا فَقِیلَ ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی قَدْ أُتِیَ بِہِمْ فَرَجَعْتُ إِلَی بَیْتِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ وَإِذَا أَبُو یَزِیدَ : سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی نَاحِیَۃِ الْحُجْرَۃِ یَدَاہُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَی عُنُقِہِ بِحَبْلٍ فَوَاللَّہِ مَا مَلَکْتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ کَذَلِکَ أَنْ قُلْتُ أَیْ أَبَا یَزِیدَ أَعْطَیْتُمْ بِأَیْدِیکُمْ أَلاَ مُتُّمْ کِرَامًا فَمَا انْتَبَہْتُ إِلاَّ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الْبَیْتِ : یَا سَوْدَۃُ أَعَلَی اللَّہِ وَعَلَی رَسُولِہِ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا مَلَکَتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ مَجْمُوعَۃٌ یَدَاہُ إِلَی عُنُقِہِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ ۔ [حسن ]
(١٨١٤٦) یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن اسعد بن زرارہ فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو قیدی لائے گئے اور سودہ بنت زمعہ نبی کی بیوی آل عفراء کے پاس تھی، عطیان کے اندر۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سودہ فرماتی ہیں : میں ان کے پاس تھی جب ہمیں لایا گیا۔ کہا گیا : یہ قیدی ہیں۔ ہم آپ کے سامنے لائے گئے۔ میں اپنے گھر واپس آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم ! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا : اے ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار ! عزت کے موت مرجاتے۔ میں سمجھ نہ سکی مگر گھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز آئی : اے سودہ ! کیا اللہ اور رسول پر ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔