(١٨١٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ جُیُوشًا إِلَی الشَّامِ فَخَرَجَ یَمْشِی مَعَ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ وَکَانَ أَمِیرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْکَ الأَرْبَاعِ فَزَعَمُوا أَنْ یَزِیدَ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلاَ أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لِلَّہِ فَذَرْہُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُئُ وسِہِمْ مِنَ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْہُ بِالسَّیْفِ وَإِنِّی مُوصِیکَ بِعَشْرٍ لاَ تَقْتَلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ صَبِیًّا وَلاَ کَبِیرًا ہَرِمًا وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاۃً وَلاَ بَعِیرًا إِلاَّ لِمَأْکَلَۃٍ وَلاَ تُحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُغْرِقَنَّہُ وَلاَ تَغْلُلُ وَلاَ تَجْبُنْ ۔ وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا مَضَی فِی مَسْأَلَۃِ التَحْرِیقِ ۔ [ضعیف ]
(١٨١٤٨) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو ابوبکر (رض) یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل نکلے۔ وہ چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ انھوں نے گمان کیا کہ آپ اضافہ کریں۔ اس نے ابوبکر (رض) سے کہا : آپ سوار ہوجائیں یا میں بھی پیدل چلتا ہوں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : نہ تو پیدل چلے گا اور نہ ہی میں سوار ہوں گا۔ میں تو پیدل چلنے میں ثواب کی نیت کرتا ہوں کیونکہ یہ اللہ کے راستہ میں ہے۔ پھر فرمایا : عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے روک رکھا ہے۔ ان کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو آ ملیں گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان بالوں کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں : تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری، اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کسی شہد کی مکھی کو جلانا اور ڈبونا نہیں، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔