(١٨١٤٧) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہَا بِأَسِیرٍ وَعِنْدَہَا نِسْوَۃٌ فَلَہَّیْنَہَا عَنْہُ فَذَہَبَ الأَسِیرُ فَجَائَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ أَیْنَ الأَسِیرُ ؟ ۔ فَقَالَتْ : نِسْوَۃٌ کُنَّ عِنْدِی فَلَہَّیْنَنِی عَنْہُ فَذَہَبَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَطَعَ اللَّہُ یَدَکِ ۔ وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِی إِثْرِہِ فَجِیئَ بِہِ فَدَخَلَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِذَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَخْرَجَتْ یَدَیْہَا فَقَالَ : مَا لَکَ ؟ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ دَعَوْتَ عَلَیَّ بِقَطْعِ یَدِی وَإِنِّی مُعَلِّقَۃٌ یَدِی أَنْتَظِرُ مَنْ یَقْطَعُہَا۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَجُنِنْتِ ؟ ۔ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ وَقَالَ : اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا ۔ [صحیح ]
(١٨١٤٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس ایک قیدی کو بھیجا اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس عورتیں تھی تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کردیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عائشہ ! قیدی کہاں ہے ؟ فرماتی ہیں : میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کردیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تیرے ہاتھ کاٹ دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے۔ اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت عائشہ اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کیا ہے ؟ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی۔ میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو پاگل ہوگئی ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا : اے اللہ ! جو میں نے اس کے خلاف بددعا کی تھی اس کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔