(١٨١٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ فَمَشَی مَعَہُ یُشَیِّعُہُ قَالَ یَزِیدُ : إِنِّی أَکْرَہُ أَنْ تَکُونَ مَاشِیًا وَأَنَا رَاکِبٌ۔ قَالَ فَقَالَ : إِنَّکَ خَرَجْتَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنِّی أَحْتَسِبُ فِی مَشْیِی ہَذَا مَعَکَ ثُمَّ أَوْصَاہُ فَقَالَ لاَ تَقْتُلُوا صَبِیًّا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ شَیْخًا کَبِیرًا وَلاَ مَرِیضًا وَلاَ رَاہِبًا وَلاَ تَقْطَعُوا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبُوا عَامِرًا وَلاَ تَذْبَحُوا بَعِیرًا وَلاَ بَقَرَۃً إِلاَّ لِمَأْکَلٍ وَلاَ تُغْرِقُوا نَحْلاً وَلاَ تُحْرِقُوہُ ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔[ضعیف ]
(١٨١٥٢) ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو شام کی جانب روانہ کیا تو اس کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : آپ اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر اس کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور شہد کی مکھی کے چھتے کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔