(١٨١٥١) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَقَالَ لِی ہَلْ تَدْرِی لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَۃِ وَنَہَی عَنْ قَتْلِ الرُّہْبَانِ فَقُلْتُ لاَ أُرَاہُ إِلاَّ لِحَبْسِ ہَؤُلاَئِ أَنْفُسَہُمْ فَقَالَ أَجَلْ وَلَکِنَّ الشَّمَامِسَۃَ یَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَیُقَاتِلُونَ وَإِنَّ الرُّہْبَانَ رَأْیُہُمْ أَنْ لاَ یُقَاتِلُوا وَقَدْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ۔ [ضعیف ]
(١٨١٥١) ابن اسحاق محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے مجھے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر (رض) نے کیوں تفریق کروائی کہ خادم کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو کو قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا ؟ کہتے ہیں : میرے خیال کے مطابق صرف انھوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ اس نے کہا : ہاں ! لیکن شمامہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ کا فرمان ہے : { وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ” اور تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ان لوگوں سے جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔ “