(١٨١٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی قِصَّۃِ أَوْطَاسٍ قَالَ : فَأَدْرَکَ رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِہِ وَہُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ امْرَأَۃٌ وَذَلِکَ أَنَّہُ کَانَ فِی شِجَارٍ لَہُ فَإِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ فَأَنَاخَ بِہِ فَإِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ وَإِذَا ہُوَ دُرَیْدٌ وَلاَ یَعْرِفُہُ الْغُلاَمُ فَقَالَ دُرَیْدٌ : مَاذَا تُرِیدُ ؟ قَالَ : قَتْلَکَ ۔ قَالَ : وَمَنْ أَنْتْ ؟ قَالَ : أَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ السُّلَمِیُّ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَہُ بِسَیْفِہِ فَلَمْ یُغْنِ شَیْئًا۔ فَقَالَ دُرَیْدٌ : بِئْسَمَا سَلَّحَتْکَ أُمُّکَ خُذْ سَیْفِی ہَذَا مِنْ مُؤَخَّرِ الشِّجَارِ ثُمَّ اضْرِبْ بِہِ وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ وَاخْفِضْ عَنِ الدِّمَاغِ فَإِنِّی کَذَلِکَ کُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ فَقَتَلَہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨١٦٢) محمد بن اسحاق بن یسار اوطاس کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن رفیع نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی۔ اس نے سمجھا : یہ عورت ہے اور یہ درختوں میں تھا۔ جب اونٹ کو بٹھایا تو وہ بوڑھا درید تھا۔ غلام اس کو جانتا نہ تھا درید نے کہا : تیرا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : تیرے قتل کا۔ درید نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں ربیعہ بن رفیع سلمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے تلوار ماری۔ لیکن درید کو قتل نہ کرسکا تو درید نے کہا : تیرے والد نے تجھے اچھے اسلحہ سے لیس نہیں کیا۔ جاؤ درختوں کے پیچھے سے میری تلوار لاؤ، ہڈی سے بچا کر دماغ پر مارو۔ میں بھی اس طرح افراد کو قتل کرتا تھا تو اس طرح اس نے قتل کردیا۔