(١٨١٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قُتِلَ یَوْمَ حُنَیْنٍ دُرَیْدُ بْنُ الصِّمَّۃِ ابْنَ خَمْسِینَ وَمِائَۃِ سَنَۃٍ فِی شِجَارٍ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجُلُوسَ فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُنْکِرْ قَتْلَہُ
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقُتِلَ أَعْمَی مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ بَعْدَ الإِسَارِ ۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی قَتْلِ مَنْ لاَ یُقَاتِلُ مِنَ الرِّجَالِ الْبَالِغِینَ إِذَا أَبَی الإِسْلاَمَ وَالْجِزْیَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : ہُوَ الزَّبِیرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِیُّ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّتَہُ فِیمَا مَضَی۔ [صحیح ]
(١٨١٦٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ درید بن صمہ ١٥٠ سال کی عمر میں اپنے باغ میں قتل کیا گیا۔ وہ بیٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کے قتل کا تذکرہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہ کیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کردیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔