(١٨١٩١) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : رُمِیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِسَہْمٍ یَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَقَضَتْ بِہِ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَمَاتَ فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَفْدُ ثَقِیفَ وَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ السَّہْمُ عِنْدَہُ فَأُخْرِجَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : ہَلْ یَعْرِفُ ہَذَا السَّہْمَ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخُو بَنِی الْعَجْلاَنِ : ہَذَا سَہْمٌ أَنَا بَرَیْتُہُ وَرِشْتُہُ وَعَقَّبْتُہُ وَأَنَا رَمَیْتُ بِہِ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِنَّ ہَذَا السَّہْمَ الَّذِی قَتَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَکْرَمَہُ بِیَدِکَ وَلَمْ یُہِنْکَ بِیَدِہِ فَإِنَّہُ وَاسِعٌ لَکُمَا۔ [ضعیف ]
(١٨١٩١) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر کو طائف کے دن تیر لگ گیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے چالیس دن بعد فوت ہوگئے۔ اس نے قصہ ذکر کیا کہ ان کے پاس ثقیف کا وفد آیا۔ یہ تیر ان کے پاس ہی تھا۔ وفد کے سامنے تیر کو پیش کیا اور کہنے لگے : تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے ؟ تو بنو عجلان کے سعید بن عبید نے کہا : یہ تیر میں نے تراشا تھا اور میں نے ہی پھینکا تھا تو ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اس تیر نے عبداللہ بن ابوبکر کو قتل کیا تھا۔ تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے تیرے ہاتھ کے ذریعے اسے عزت دی اور اس کے ہاتھ کے ذریعے تجھے رسوا نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تم دونوں کو گھیرنے والا ہے۔