(١٨١٩٢) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَابُ بِالْمُصِیبَۃِ فَیَقُولُ أُصِبْتُ بِزَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَبَرْتُ وَأَبْصَرَ قَاتِلَ أَخِیہِ زَیْدٍ فَقَالَ لَہُ : وَیْحَکَ لَقَدْ قَتَلْتَ لِی أَخًا مَا ہَبَّتِ الصَّبَا إِلاَّ ذَکَرْتُہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨١٩٢) عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کوئی پریشانی، مصیبت آتی تو فرماتے کہ زید بن خطاب کی وجہ سے پریشانی آئی ہے۔ میں نے صبر کیا۔ اس نے اپنے بھائی زید کے قاتل کو دیکھ لیا تو اس سے کہتے : افسوس تیرے اوپر تو نے میرے بھائی کو قتل کردیا۔ جب بھی صبح کی ہوا چلتی ہے تو میں بھائی کو یاد کرتا ہوں۔