(۱۸۲۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مُغِیثُ بْنُ بُدَیْلٍ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَطَائٍ ہُوَ ابْنُ یَسَارٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَیْلِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ: أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یُغْمَی عَلَیْہِ فَیَتْرُکُ الصَّلاَۃَ الْیَوْمَ وَالْیَوْمَیْنِ ، وَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَیْسَ لِشَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ قَضَائٌ إِلاَّ أَنْ یُغْمَی عَلَیْہِ فِی صَلاَتِہِ ، فَیُفِیقُ وَہُوَ فِی وَقْتِہَا فَیُصَلِّیہَا))۔ [باطل۔ أخرج الدارقطنی ۲/۸۲]
(١٨٢٠) قاسم نے سیدہ عائشہ (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس پر بےہوشی طاری ہوجاتی ہے اور وہ ایک یا دو دن یا اس سے زیادہ دن کی نمازیں چھوڑتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس پر قضا نہیں ہے مگر وہ نماز جس میں اس کو افاقہ ہوجائے تو وہ نماز پڑھے گا۔ “