(١٨٢٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ حَدَّثَنِی أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ وَعَظَّمَ أَمْرَہُ فَقَالَ : لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ بَعِیرٌ لَہُ رُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ فَرَسٌ لَہَا حَمْحَمَۃٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ نَفْسٌ لَہَا صِیَاحٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ صَامِتٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ َجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٢٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنیمت کے مال میں خیانت کا تذکرہ فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا اور اس خیانت کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ پھر فرمایا : میں تم سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے تو اس کی گردن پر ایسا اونٹ ہو جو آواز نکال رہا اور وہ کہے : اے اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک (فریضہ زکوۃ کی) بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو وہ کہے کہ اللہ کے رسول ! میری مدد کیجیے میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں بتادیا تھا۔ پھر فرمایا : تم میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ شخص کہے : اے اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سوار انسان چلا رہا ہو۔ وہ شخص کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہو اور وہ التجا کررہا ہو۔ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑے پھڑ پھڑا رہے ہوں اور وہ التجا کررہا ہو کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے اور میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔