(١٨٢٥٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ : أَنَّ الْعَدُوَّ أَصَابُوا نَاقَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَاشْتَرَاہَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَعَرَفَہَا صَاحِبُہَا فَخَاصَمَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : رُدَّ إِلَیْہِ الثَّمَنَ الَّذِی اشْتَرَاہَا بِہِ أَوْ خَلِّ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ : تَمِیمُ بْنُ طَرَفَۃَ لَمْ یُدْرِکِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ وَالْمُرْسَلُ لاَ تَثْبُتُ بِہِ حَجَّۃٌ لأَنَّہُ لاَ یُدْرَی عَمَّنْ أَخَذَہُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٢٥٤) سماک بن حرب حضرت تمیم بن طرفہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دشمن نے مسلمانوں کے کسی فرد کی اونٹنی پر قبضہ کرلیا اور کسی مسلمان نے اس اونٹنی کو خرید لیا تو اونٹنی کے مالک نے اسے پہچان لیا۔ جھگڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی قیمت واپس کر دو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے یا اپنی اونٹنی چھوڑ دو ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : تمیم بن طرفہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی۔ معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔