(١٨٢٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ أَنَّہُ قَالَ : ہَلْ تَدْرِی عَمَّ کَانَ إِسْلاَمُ ثَعْلَبَۃَ وَأَسِیدِ ابْنَیْ سَعْیَۃَ وَأَسَدِ بْنِ عُبَیْدٍ نَفَرٍ مِنْ ہَدَلٍ لَمْ یَکُونُوا مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَلاَ نَضِیرٍ کَانُوا فَوْقَ ذَلِکَ فَقُلْتُ لاَ قَالَ فَإِنَّہُ قَدِمَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ یَہُودَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا وَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا رَجُلاً قَطُّ لاَ یُصَلِّی الْخَمْسَ خَیْرًا مِنْہُ فَقَدِمَ عَلَیْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسِنِینَ فَکُنَّا إِذَا أُقْحِطْنَا وَقَلَّ عَلَیْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَہُ یَا ابْنَ الْہَیَّبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا فَیَقُولُ لاَ وَاللَّہِ حَتَّی تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِکُمْ صَدَقَۃً فَنَقُولُ کَمْ نُقَدِّمُ فَیَقُولُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّیْنِ مِنْ شَعِیرٍ ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی ظَاہِرَۃِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ فَیَسْتَسْقِی فَوَاللَّہِ مَا یَقُومُ مِنْ مَجْلِسِہِ حَتَّی تَمُرَّ الشِّعَابُ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلاَ مَرَّتَیْنِ وَلاَ ثَلاَثَۃِ فَحَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ مَا تَرَوْنَہُ أَخْرَجَنِی مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِیرِ إِلَی أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ فَقُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّہُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِی أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِیٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُہُ ہَذِہِ الْبِلاَدُ مُہَاجَرُہُ فَأَتَّبِعُہُ فَلاَ تُسْبَقُنَّ إِلَیْہِ إِذَا خَرَجَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ فَإِنَّہُ یَسْفِکُ الدِّمَائَ وَیَسْبِی الذَّرَارِیَّ وَالنِّسَائَ مِمَّنْ خَالَفَہُ فَلاَ یَمْنَعُکُمْ ذَلِکَ مِنْہُ ثُمَّ مَاتَ فَلَمَّا کَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی افْتُتِحَتْ فِیہَا قُرَیْظَۃُ قَالَ أُولَئِکَ الْفِتْیَۃُ الثَّلاَثَۃُ وَکَانُوا شَبَابًا أَحْدَاثًا یَا مَعْشَرَ یَہُودَ لَلَّذِی کَانَ ذَکَرَ لَکُمُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ قَالُوا مَا ہُوَ قَالُوا بَلَی وَاللَّہِ إِنَّہُ لَہُوَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ إِنَّہُ وَاللَّہِ لَہُوَ لِصِفَتِہِ ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ وَأَہَالِیہِمْ قَالَ وَکَانَتْ أَمْوَالُہُمْ فِی الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِکِینَ فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]
(١٨٢٦٣) عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ، اسید جو سعید کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید جو بنو ہزل سے تھا بنو نضیر اور بنو قریظہ سے نہ تھا بلکہ ان کے اعلیٰ لوگوں میں سے تھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرلیا ؟ میں نے کہا : نہیں انھوں نے فرمایا بلکہ ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم ! ہم نے اس جیسا شخص کوئی نہیں دیکھا۔ اس سے بہتر پانچ نمازیں کوئی نہ پڑھتا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے دو سال پہلے آیا، جب قحط سالی یا بارش کم ہوئی۔ ہم کہتے : اے ابن ہیبان ! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا کہ نہیں پہلے صدقہ کرو پھر دعا کے لیے چلتے ہیں۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں ؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ پتھریلی زمین کی طرف نکلتا ہے۔ ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم ! ہم اپنی جگہ سے نہ ہٹتے کہ بادل آجاتے۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا۔ اس کی موت کا وقت آگیا تو ہم اس کے پاس جمع ہوگئے۔ اس نے کہا : اے یہود کا گروہ ! تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک نبی آئے گا جس کی حکومت ان شہروں تک اور یہ اس کی ہجرت گاہ بھی ہے۔ میں اس کی پیروی کروں گا جب اس کا ظہور ہو اور تم اس کے مد مقابل نہ آنا۔ کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا۔ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا تو اس کے ماننے سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ پھر وہ فوت ہوگیا۔ جس رات بنو قریظہ مغلوب کردیے گئے۔ اس وقت یہ تینوں جوان تھے۔ انھوں نے کہا : اے یہود کا گروہ ! ابن ہیبان نے تمہیں کچھ کہا تھا ؟ انھوں نے کہا : وہ کیا ؟ انھوں نے کہا : یہ وہی ہے یہی صفات اس نے بیان کی تھیں۔ آپ نے ان کے مال، اولاد اور گھر والے دے دیے۔ ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کردیے۔