hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18270

.

سنن البيهقي

18270
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٢٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ عُمَرُ وَہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ صَخْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزَا ثَقِیفًا فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِکَ صَخْرٌ رَکِبَ فِی خَیْلٍ یُمِدُّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَوَجَدَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ یَفْتَحْ فَجَعَلَ صَخْرٌ حِینَئِذٍ عَہْدَ اللَّہِ وَذِمَّتَہُ أَنْ لاَ یُفَارِقَ ہَذَا الْقَصْرَ حَتَّی یَنْزِلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُفَارِقْہُمْ حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَتَبَ إِلَیْہِ صَخْرٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ ثَقِیفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَیْہِمْ وَہُمْ فِی خَیْلٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَدَعَا لأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ اللَّہُمَّ بَارِکْ لأَحْمَسَ فِی خَیْلِہَا وَرِجَالِہَا وَأَتَاہُ الْقَوْمُ فَتَکَلَّمَ الْمُغِیرَۃُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِی وَدَخَلَتْ فِیمَا دَخَلَ فِیہِ الْمُسْلِمُونَ فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْمُغِیرَۃِ عَمَّتَہُ ۔ فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ وَسَأَلَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَائً لِبَنِی سُلَیْمٍ قَدْ ہَرَبُوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَتَرَکُوا ذَاکَ الْمَائَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنْزِلْنِیہِ أَنَا وَقَوْمِی قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَنْزَلَہُ وَأَسْلَمَ یَعْنِی السُّلَمِیِّینَ فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوہُ أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْہِمُ الْمَائَ فَأَبَی فَأَتَوْا نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَسْلَمْنَا وَأَتَیْنَا صَخْرًا لِیَدْفَعَ إِلَیْنَا مَائَ نَا فَأَبَی عَلَیْنَا فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْقَوْمِ مَائَ ہُمْ ۔ قَالَ : نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَغَیَّرُ عِنْدَ ذَلِکَ حُمْرَۃً حَیَائً مِنْ أَخْذِہِ الْجَارِیَۃَ وَأَخْذِہِ الْمَائَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : الاِسْتِدْلاَلُ وَقَعَ بِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ ۔ فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَائِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَکَہُ بِتَمْلِیکِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِیَّاہُ فَإِنَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ بِاسْتِطَابَۃِ نَفْسِہِ وَلِذَلِکَ کَانَ یَظْہَرُ فِی وَجْہِہِ أَثَرَ الْحَیَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَعَمَّۃُ الْمُغِیرَۃِ فَإِنْ کَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الأَخْذِ فَکَأَنَّہُ رَأَی إِسْلاَمَہَا قَبْلَ الْقِسْمَۃِ یُحْرِزُ مَالَہَا وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِسْلاَمُہَا قَبْلَ الأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَصَخْرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ الْعَیِّلَۃِ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَیِّلَۃِ لَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَرُوِیَ فِی قِصَّۃِ رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُ قِصَّۃِ عَمَّۃِ الْمُغِیرَۃِ فَإِنَّہُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہْلِی وَمَالِی۔ قَالَ : أَمَّا مَالُکَ فَقَدْ قُسِمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّا أَہْلُکَ فَانْظُرْ مْنْ قَدَرْتَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ ۔ قَالَ : فَرُدَّ عَلَیْہِ ابْنُہُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَہْلِ الْغَنِیمَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَہْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِیبِہِمْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَإِسْنَادُ الْحَدِیثَیْنِ غَیْرُ قَوِیٍّ ۔ [ضعیف ]
(١٨٢٦٤) عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو ثقیف سے غزوہ کیا صخر کو پتہ چلا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر آیا۔ اس نے دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر فتح کے واپس ہوئے ہیں تو صخر نے کہا : وہ اتنی دیر نہ جائے گا جب تک یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر نہ اتر آئیں۔ بالآخر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر پڑے تو صخر نے لکھا : حمد و ثنا کے بعد ! اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلہ کی صورت میں آ رہے ہیں۔ آپ نے حکم فرمایا : صلوۃ جامعۃ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں۔ اے اللہ ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے۔ لوگ آئے تو مغیرہ نے بات کی کہ اے اللہ کے رسول ! صخر نے میری پھوپھی کو پکڑ لیا ہے وہ بھی لوگوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں تو مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو ۔ صخر نے واپس کردی اور کہا : بنو سلیم کے پانیوں کے متعلق سوال کیا جو اسلام سے بھاگ گئے اور پانی چھوڑ گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور میری قوم کو وہ عطا کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درست ہے۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آگئے۔ تو صخر سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے اسلام قبول کرلیا اور ہم نے صغر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کردیں۔ لیکن اس نے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر ! جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں۔ آپ ان کے پانی واپس کردیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! درست ہے۔ میں نے رسول اللہ کے چہرے کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سرخ ہو رہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے لونڈی اور پانی واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : اس قول سے استدلال کیا ہے کہ لوگ جب مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں صخر سے پانی واپس لینا یہ بھی اس کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں۔ یہی وجہ تھی کہ حیاء کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور مغیرہ کی پھوپھی نے پکڑے جانے کے بعد اسلام قبول کیا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کا مالک بن گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رعیہ حیمی کا قصہ ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اہل و عیال اور مال ؟ آپ نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوچکا اور اپنے اہل کو دیکھو جس پر آپ کو قدرت ہو تو اس کا بیٹا واپس کردیا گیا۔ ممکن ہے غنیمت وصول کرنے والوں نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہو۔