(١٨٢٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا فَیَّاضٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ أَحْسِبُہُ قَالَ إِلَی بَنِی جَذِیمَۃَ فَدَعَاہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَلَمْ یُحْسِنُوا أَنْ یَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِہِمْ قَتْلاً وَأَسْرًا قَالَ ثُمَّ دَفَعَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِیرًا حَتَّی إِذَا أَصْبَحَ یَوْمًا أَمَرَنَا فَقَالَ : لِیَقْتُلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمْ أَسِیرَہُ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُ أَسِیرِی وَلاَ یَقْتُلُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِی أَسِیرَہُ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذُکِرَ لَہُ مَا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔
[صحیح۔ بخاری ٤٣٣٩-٧١٨٩]
(١٨٢٦٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو خالد نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے اچھی کلام نہ کی کہ وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے بلکہ انھوں نے کہا : ہم بےدین ہوگئے تو خالد نے انھیں قتل کیا اور قیدی بنائے۔ کہتے ہیں : پھر ہر شخص کو اس کا قیدی دے دیا گیا تو ایک صبح حضرت خالد نے حکم دیا کہ اپنے قیدی قتل کر دو تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : نہ تو میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی تو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بلند کر کے فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔