(١٨٢٦٧) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ عَلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ غَنَمٌ لَہُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ لِیَتَعَوَّذَ مِنْکُمْ فَعَمَدُوا إِلَیْہِ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا غَنَمَہُ فَأَتَوْا بِہَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَتَثَبَّتُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا } [النساء ٩٤]إِلَی قَوْلِہِ { کَذَلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَتَثَبَّتُوا } [النساء ٩٤] ۔ [ضعیف ]
(١٨٢٦٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک شخص صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے سلام کیا۔ صحابہ کہنے لگے : اس نے صرف بچاؤ کے لیے سلام کہا ہے۔ انھوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا اور اس کی بکری بھی لے لی۔ وہ اس کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ للّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا } [النساء ٩٤] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستہ میں چلو تو تحقیق کرلیا کرو تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو تم پہلے اس طرح تھے اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کرلیا کرو۔ “