(١٨٢٦٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ : أَنَّہُ کَانَ فِی سَرِیَّۃٍ فَرَآہُمْ رَجُلٌ وَہُوَ فِی جَبَلٍ فَنَزَلَ إِلَیْہِمْ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَأَخَذُوہُ فَقَتَلُوہُ فَفِیہِ نَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } [النساء ٩٤] وَالرَّجُلُ الَّذِی قَتَلُوہُ عَامِرُ بْنُ الأَضْبَطِ الأَشْجَعِیُّ ۔ [ضعیف ]
(١٨٢٦٩) ابن ابی حدرد اسلمی فرماتے ہیں : میں ایک لشکر میں تھا کہ انھیں پہاڑ سے ایک شخص نے دیکھا تو ان کے پاس آ کر سلام کہا۔ انھوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } [النساء ٩٤] ” اور تم نہ کہو ایسے شخص کو جو تمہیں سلام کہتا ہے کہ تم مومن نہیں تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ “ کہ وہ شخص جسے انھوں نے قتل کیا وہ عامر بن اضبط تھا۔