(١٨٢٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْکِینٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ سَرَّحَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْخَیْلِ وَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ اہْتِفْ بِالأَنْصَارِ ۔ قَالَ : اسْلُکُوا ہَذَا الطَّرِیقَ فَلاَ یُشْرِفَنَّ لَکُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوہُ ۔ فَنَادَی مُنَادِی : لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ ۔ وَعَمَدَ صَنَادِیدُ قُرَیْشٍ فَدَخَلُوا الْکَعْبَۃَ فَغَصَّ بِہِمْ وَطَافَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَخَذَ بِجَنَبَتَیِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَایَعُوا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی الإِسْلاَمِ ۔ زَادَ فِیہِ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمِ بْنُ مِسْکِینٍ عَنْ أَبِیہِ بِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ : ثُمَّ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْبَابِ فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ وَمَا تَظُنُّونَ ۔ قَالُوا : نَقُولُ ابْنُ أَخٍ وَابْنُ عَمٍّ حَلِیمٍ رَحِیمٍ قَالَ وَقَالُوا ذَلِکَ ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَقُولُ کَمَا قَالَ یُوسُفُ { لاَ تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللَّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ } [یوسف ٩٢] ۔ قَالَ فَخَرَجُوا کَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ ۔ [صحیح ]
(١٨٢٧٥) عبداللہ بن رباح انصاری حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو زبیر بن عوام، ابو عبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید (رض) کو لشکر پر روانہ فرمایا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! انصار کو آواز دو کہ تم اس راستہ پر چلو۔
تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے۔ جس نے ہتھیار پھینک دیے اس کو بھی امن ہے تو قریشی سردار کعبہ میں داخل ہوگئے اور کعبہ ان سے بھر گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا تو انھوں نے نکل کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسلام پر بیعت کی۔ (ب) قاسم بن سلام بن مسکین اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں آئے اور دروازے کی چوکھٹ کے دو بازؤں کو پکڑا اور فرمایا : تم کیا کہتے ہو، تمہارا کیا گمان ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم کہتے ہیں : بھتیجا اور چچے کا بیٹا بردبار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی : { قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ } [یوسف ٩٢] ” فرمایا : تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ وہ نکلے جیسے قبروں سے اٹھائے گئے ہوں اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔