(۱۸۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ سُکْرًا مَرَّۃً وَاحِدَۃً فَکَأَنَّمَا کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا فَسُلِبَہَا ، وَمَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ سُکْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ کَانَ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ یَسْقِیَہُ مِنْ طِینَۃِ الْخَبَالِ))۔ قِیلَ وَمَا طِینَۃُ الْخَبَالِ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((عُصَارَۃُ أَہْلِ جَہَنَّمَ))۔ [حسن۔ أخرجہ احمد ۲/۱۷۸]
(١٨٢٩) سیدنا عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دی تو وہ ایسا ہے جیسے اس سے دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے چھین لیا گیا اور جس نے چار مرتبہ نشے کی حالت میں نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کو طینۃ البنال پلائے۔ پوچھا گیا ” طینۃ النبال “ سے کیا مراد ہے، اے اللہ کے رسول ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جہنمیوں کی پیپ۔ “