(١٨٣٠٢) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ لأَبِی طَلْحَۃَ حِینَ أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَی خَیْبَرَ : الْتَمِسْ لِی غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ یَخْدُمُنِی ۔ فَخَرَجَ بِی أَبُو طَلْحَۃَ مُرْدِفِی وَأَنَا غُلاَمٌ قَدْ رَاہَقْتُ فَکَانَ إِذَا نَزَلَ خَدَمْتُہُ فَسَمِعْتُہُ کَثِیرًا مِمَّا یَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَظِلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ ۔ فَلَمَّا فُتِحَ الْحِصْنُ ذُکِرَ لَہُ جَمَالُ صَفِیَّۃَ وَکَانَتْ عَرُوسًا وَقُتِلَ زَوْجُہَا فَاصْطَفَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِنَفْسِہِ فَلَمَّا کُنَّا بِسُدِّ الصَّہْبَائِ حَلَّتْ فَبَنَی بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَاتَّخَذَ حَیْسًا فِی نِطَعٍ صَغِیرٍ وَکَانَتْ وَلِیمَۃً فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُحَوِّی لَہَا بِعَبَائَ ۃٍ خَلْفَہُ وَیَجْلِسُ عِنْدَ نَاقَتِہِ فَیَضَعُ رُکْبَتَہُ فَتَجِیئُ صَفِیَّۃُ فَتَضَعُ رِجْلَہَا عَلَی رُکْبَتِہِ ثُمَّ تَرْکَبُ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہَذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ ۔ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ اللَّہُمَّ وَإِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِی صَاعِہِمْ وَمُدِّہِمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَاہُ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ یَعْقُوبَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ غَزَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ الْمُرَیْسِیعِ بِامْرَأَۃٍ أَوِ امْرَأَتَیْنِ مِنْ نِسَائِہِ وَالْغَزْوُ بِالنِّسَائِ أَوْلَی لَوْ کَانَ فِیہِ مَکْرُوہٌ أَنْ یُتَوَقَّی۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ مَضَتِ الأَحَادِیثُ فِی ذَلِکَ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ وَمَضَتْ أَحَادِیثُ فِی غَزْوِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالنِّسَائِ فِی ہَذَا الْکِتَابِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٣٠٢) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طلحہ سے فرمایا، جب خیبر جانے کا ارادہ تھا کہ اپنے غلاموں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے تو ابو طلحہ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیا اور میں بچہ تھا اور بلوغت کے قریب۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑاؤ کرتے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے تھے : اے اللہ ! میں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بخل سے اور قرض چڑھ جانے سے اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ جب قلعہ فتح ہوگیا تو صفیہ کی خوبصورتی کا تذکرہ کیا گیا۔ وہ شادی شدہ تھی، اس کا خاوند قتل ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انتخاب اپنے لیے کرلیا۔ جب ہم صہبا نامی جگہ پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے صحبت کی اور حلوے کے ساتھ ولیمہ کیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر کے ذریعے اپنے پیچھے سواری پر جگہ بنائی اور اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنے گھٹنے کو رکھا تو صفیہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر سوار ہوئی۔ جب احد کا موقع آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اے اللہ ! ان کے صاع اور مد میں برکت دے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ مریسیع میں ایک یا دو عورتوں کو ساتھ لیا اور عورت کو ساتھ لے کر غزوہ کرنا بہتر ہے اگرچہ چاہت کرنا مکروہ ہے۔