(١٨٣٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ بْنِ أَعْیَنَ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ وَأَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ أَبَا أُسَیْدٍ الأَنْصَارِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمَ بِسَبْیٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ فَصُفُّوا فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَبْکِی فَقَالَ : مَا یُبْکِیکِ ؟ ۔ قَالَتْ : بِیعَ ابْنِی فِی عَبْسٍ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَبِی أُسَیْدٍ : لَتَرْکَبَنَّ فَلَتَجِیئَنَّ بِہِ کَمَا بِعْتَ بِالثَّمَنِ ۔ فَرَکِبَ أَبُو أُسَیْدٍ فَجَائَ بِہِ ۔
ہَذَا وَإِنْ کَانَ فِیہِ إِرْسَالٌ فَہُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ شَاہِدٌ لَمَّا تَقَدَّمَ ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٠٨) ابو اسید انصاری فرماتے ہیں کہ بحرین کے قیدیوں کی صفیں بنی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی جانب دیکھا تو ایک عورت رو رہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کس چیز نے رلایا ہے ؟ اس نے کہا : قبیلہ عبس میں میرے بیٹے کو فروخت کردیا گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو اسید سے کہا کہ جاؤ، اس کو لے کر آؤ، جتنی قیمت میں آپ نے فروخت کیا ہے تو ابو اسید اسے لے کر آئے۔