hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18336

.

سنن البيهقي

18336
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٣٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّرَہُ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَغَزَوْنَا فَزَارَۃَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَائِ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَرَّسْنَا فَلَمَّا صَلَّیْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَنَنَّا الْغَارَۃَ فَنَزَلْنَا عَلَی الْمَائِ قَالَ سَلَمَۃُ فَنَظَرْتُ إِلَی عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِیہِمُ الذُّرِّیَّۃُ وَالنِّسَائُ فَخَشِیتُ أَنْ یَسْبِقُونِی إِلَی الْجَبَلِ فَأَخَذْتُ آثَارَہُمْ فَرَمَیْتُ بِسَہْمٍ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَسُوقُہُمْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِیہِمُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ عَلَیْہَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَہَا ابْنَۃٌ لَہَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَتَہَا فَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ وَلَمْ أَکْشِفْ لَہَا ثَوْبًا وَلَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتَرَکَنِی حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ لِی : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ لِلَّہِ أَبُوکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَاللَّہِ مَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا وَہِیَ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ فَفَدَی بِہَا رِجَالاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ بِأَیْدِیہِمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُمَرَ بْنِ یُونُسَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَرَأَیْتَ صِلَۃَ أَہْلِ الْحَرْبِ بِالْمَالِ وَإِطْعَامَہُمُ الطَّعَامَ أَلَیْسَ بِأَقْوَی لَہُمْ فِی کَثِیرٍ مِنَ الْحَالاَتِ مِنْ بَیْعِ عَبْدٍ أَوْ عَبْدَیْنِ مِنْہُمْ فَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی أَتَتْنِی وَہِیَ رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ أَفَأَصِلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢٥٥]
(١٨٣٣٠) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنے امیر حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ نکلے۔ ہم نے فزارہ سے غزوہ کیا۔ جب ہم ان کے پانی کے قریب پہنچے تو ہم نے ابوبکر (رض) کے حکم سے پڑاؤ کیا۔ جب صبح کی نماز پڑھی تو ابوبکر (رض) نے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی پر آئے۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نے ایک اونچی جگہ پر لوگوں کو دیکھا، جن میں بچے اور عورتیں تھیں۔ میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں ان کے پیچھے چلا۔ ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا تھا وہ کھڑے ہوگئے۔ میں ان کو حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا۔ ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر چمڑے کا لباس تھا اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین بیٹی بھی تھی تو ابوبکر (رض) نے اس کی بیٹی مجھے زائد دے دی۔ میں نے اس کے کپڑے کو مدینہ آنے تک نہ کھولا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے۔ فرمایا : اے سلمہ ! عورت مجھے حبہ کر دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے دن صبح پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے اور کہا : اے سلمہ عورت ! مجھے ہبہ کر دو ۔ اللہ کے لیے تیرے باپ کی خوبی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اچھی لگتی ہے۔ اور اللہ کی قسم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اٹھایا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کی طرف اس کو روانہ کردیا اور اس کے عوض بہت سارے مسلمان ان کے ہاتھوں سے آزاد کروائے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کردیے جائیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسماء بنت ابی بکر کو اجازت دی تھی، جب اس نے کہا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور یہ مشرکہ ہے۔ کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔