(١٨٣٣١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : أَتَتْنِی أُمِّی رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَصْلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَسَا ذَا قَرَابَۃٍ لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٣٣١) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ میری والدہ قریش کے دین میں رغبت رکھتی ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے صلہ رحمی کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں صلہ رحمی کرو۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اجازت دی کہ وہ اپنے مشرک قرابت داروں کو کپڑے پہنا دیں مکہ میں۔