(١٨٣٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ
(ح) وَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَغَیْرُہُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا فَذَکَرُوا قِصَّۃَ بَدْرٍ وَفِیہَا : ثُمَّ خَرَجَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ فَدَعَوْا إِلَی الْبِرَازِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ فِتْیَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ ثَلاَثَۃٌ فَقَالُوا : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : رَہْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا مَا بِنَا إِلَیْکُمْ حَاجَۃٌ ثُمَّ نَادَی مُنَادِیہِمْ یَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ إِلَیْنَا أَکْفَائَ نَا مِنْ قَوْمِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا حَمْزَۃُ قُمْ یَا عَلِیُّ قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ ۔ فَلَمَّا قَامُوا وَدَنَوْا مِنْہُمْ قَالُوا : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالَ حَمْزَۃُ : أَنَا حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ عَلِیٌّ : أَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ۔ وَقَالَ عُبَیْدَۃُ : أَنَا عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ۔ فَقَالُوا : نَعَمْ أَکْفَائٌ کِرَامٌ۔ فَبَارَزَ عُبَیْدَۃُ عُتْبَۃَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ کِلاَہُمَا أَثْبَتَ صَاحِبَہُ وَبَارَزَ حَمْزَۃُ شَیْبَۃَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ وَبَارَزَ عَلِیٌّ الْوَلِیدَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ ثُمَّ کَرَّا عَلَی عُتْبَۃَ فَذَفَّفَا عَلَیْہِ وَاحْتَمَلاَ صَاحِبَہُمَا فَحَازُوہُ إِلَی الرَّحْلِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَارَزَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ مَرْحَبًا یَوْمَ خَیْبَرَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَارَزَ یَوْمَئِذٍ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّام رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَاسِرًا۔ [ضعیف ]
(١٨٣٤٤) عبداللہ بن ابی بکر اور ان کے علاوہ دوسرے بدر کے قصے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ ربیعہ، ولید بن عتبہ نکلے اور مقابلہ کی دعوت دی تو تین انصاری جوان ان کے مقابلہ میں آئے۔ انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : انصاری لوگ۔ وہ کہنے لگے : ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آواز دینے والے نے آواز دی : اے محمد ! ہماری طرف ہمارے برابر کے لوگ نکالو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ، علی اور عبیدہ کھڑے ہو جاؤ۔ جب وہ ان کے قریب گئے تو انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ حمزہ (رض) نے کہا : میں حمزہ بن عبدالمطلب ہوں اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ عبیدہ کہنے لگے : میں عبیدہ بن حارث ہوں۔ انھوں نے کہا : برابر کے معزز لوگ ہیں۔ حضرت عبیدہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا ان کے درمیان دو واروں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ثابت قدم رہے اور حضرت حمزہ (رض) نے شیبہ کا مقابلہ کیا۔ اسی جگہ ہی اسے قتل کر ڈالا اور حضرت علی (رض) نے ولید کا مقابلہ کیا۔ اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں عتبہ پر پلٹے اور اس کا کام تمام کردیا اور اپنے ساتھی کو اٹھا کر خیمے میں لے گئے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے خیبر کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی وجہ سے مرحب کا مقابلہ کیا اور زبیر بن عوام (رض) نے یاسر کا۔