hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18351

.

سنن البيهقي

18351
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٣٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ أَحَدُ بَنِی حَارِثَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِ خَیْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلاَحَہُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِہَذَا ؟ ۔ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا وَاللَّہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِی بِالأَمْسِ ۔ قَالَ : قُمْ إِلَیْہِ اللَّہُمَّ أَعِنْہُ عَلَیْہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی کَیْفِیَّۃِ قِتَالِہِمَا قَالَ : وَضَرَبَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَتَّی قَتَلَہُ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ثُمَّ خَرَجَ یَاسِرٌ فَبَرَزَ لَہُ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لَمَّا خَرَجَ إِلَیْہِ الزُّبَیْرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَقْتُلُ ابْنِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ ابْنُکِ یَقْتُلُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ فَخَرَجَ الزُّبَیْرُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ ثُمَّ الْتَقَیَا فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ قَالَ وَکَانَ ذَکَرَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ قَتَلَ یَاسِرًا کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ ہُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨]
(١٨٣٤٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا۔ وہ کہہ رہا تھا : کون میرا مقابلہ کرے گا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون اس کے مقابلے میں آئے گا ؟ محمد بن مسلمہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا۔ کیونکہ انھوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور دعا دی۔ اے اللہ ! اس کی مدد فرما۔ ان دونوں کے لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے اس کو قتل کردیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : پھر یاسر نکلا تو حضرت زبیر نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب زبیر نکلے تو صفیہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا بیٹا قتل کرلے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔ پھر زبیر رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے۔ پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو زبیر نے اس کو قتل کردیا۔ راوی کہتے ہیں : اس طرح اس نے ذکر کیا کہ حضرت علی (رض) نے یاسر کو قتل کیا اور محمد بن مسلمہ (رض) نے مرحب کو قتل کیا۔