(١٨٣٤٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ مُسْلِمٍ الأَزْدِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ فِی خَیْبَرَ وَذَکَرَ خُرُوجَ مَرْحَبٍ وَرَجَزَہُ وَقَوْلَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَکِیلُہُمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السِّنْدَرَہْ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ فَبَدَرَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَضَرَبَہُ فَقَدَّ الْحَجَرَ وَالْمِغْفَرَ وَرَأْسَہُ وَوَقَعَ فِی الأَضْرَاسِ وَأَخَذَ الْمَدِینَۃَ ۔ [حسن ]
(١٨٣٤٧) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے خیبر اور مرحب کا رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حضرت علی (رض) کی بات بھی اس کے ہم معنیٰ ہے مگر حضرت علی (رض) کا قول دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : میں تمہیں بہت زیادہ قتل کرنے والا ہوں۔
راوی کہتے ہیں : ان میں دو واروں کا تبادلہ ہوا تو حضرت علی (رض) نے تلوار ماری، جس نے پتھر، ٹوپ اور سر کو پھاڑ ڈالا اور داڑھوں تک جا پہنچی۔