hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18352

.

سنن البيهقي

18352
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٣٤٦) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدْعُوہُ وَہُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ الْیَوْمَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ أَقُودُہُ قَالَ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی عَیْنَیْہِ فَبَرَأَ فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ قَالَ فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَہُوَ یَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرِّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ قَالَ : فَبَرَزَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَقُولُ : أَنَا الَّذِی سَمَّتْنِی أُمِّی حَیْدَرَہْ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیہِ الْمَنْظَرَہْ أُوفِیہُمُ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَہْ فَضَرَبَ مَرْحَبًا فَفَلَقَ رَأْسَہُ فَقَتَلَہُ وَکَانَ الْفَتْحُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(١٨٣٤٦) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے۔ ایک لمبی حدیث ذکر کی۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا : ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا۔ میں تندرست ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا مجھے دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلہ کی دعوت دی۔ اس نے کہا : خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔
حضرت علی (رض) اس کے مقابلہ میں یہ کہتے ہوئے آئے : میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے اور صرف دھاڑنے سے ہی بھرپور قتل کرنے والا ہے۔
تو حضرت علی نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور قتل کردیا۔ یہ فتح تھی۔