(١٨٣٥٣) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِرَأْسٍ فَقَالَ : بَغَیْتُمْ ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ مَعْمَرٍ حَدَّثَنِی صَاحِبٌ لَنَا عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمْ یُحْمَلْ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسٌ إِلَی الْمَدِینَۃِ قَطُّ وَلاَ یَوْمَ بَدْرٍ وَحُمِلَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأْسٌ فَکَرِہَ ذَلِکَ قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَیْہِ الرُّئُ وسُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٥٣) عبدالکریم جذری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس ایک سر لایا گیا تو فرمانے لگے : تم نے سرکشی کی ہے۔
(ب) زہری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا۔ جب حضرت ابوبکر (رض) کے پاس سر لایا گیا تو انھوں نے ناپسند کیا۔ کہتے ہیں : سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر کے پاس سر لائے گئے۔