(١٨٣٥٤) قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْجَرَّاحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَۃَ عَنْ بَشِیرِ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : لَقِیَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعَدُوَّ فَقَالَ : مَنْ جَائَ بِرَأْسٍ فَلَہُ عَلَی اللَّہِ مَا تَمَنِّی ۔ فَجَائَ ہُ رَجُلاَنِ بِرَأْسٍ فَاخْتَصَمَا فِیہِ فَقَضَی بِہِ لأَحَدِہِمَا۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ فَہَذَا حَدِیثٌ مُنْقَطِعٌ۔ وَفِیہِ إِنْ ثَبَتَ تَحْرِیضٌ عَلَی قَتْلِ الْعَدُوِّ وَلَیْسَ فِیہِ نَقْلُ الرَّأْسِ مِنْ بِلاَدِ الشِّرْکِ إِلَی بِلاَدِ الإِسْلاَمِ ۔
(١٨٣٥٤) بشیر بن عقبہ ابو نضرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن سے ملے۔ فرمایا : جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے۔ دو آدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کے لیے فیصلہ کردیا۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔