(١٨٣٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ قَالَ کَتَبَ عُمَرُ إِلَی سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا حِینَ افْتَتَحَ الْعِرَاقَ : أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی کِتَابُکَ تَذْکُرُ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوکَ أَنْ تَقْسِمَ بَیْنَہُمْ مَغَانِمَہُمْ وَمَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَإِذَا جَائَ کَ کِتَابِی ہَذَا فَانْظُرْ مَا أَجْلَبَ النَّاسُ عَلَیْکَ إِلَی الْعَسْکَرِ مِنْ کَرَاعٍ أَوْ مَالٍ فَاقْسِمْہُ بَیْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَاتْرُکِ الأَرَضِینَ وَالأَنْہَارَ لِعُمَّالِہَا فَیَکُونُ ذَلِکَ فِی أُعْطَیَاتِ الْمُسْلِمِینَ فَإِنَّکَ إِنْ قَسَمْتَہَا بَیْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ یَکُنْ لِمَنْ بَعْدَہُمْ شَیْئٌ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٦٩) یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سعد کو عراق کی فتح کے موقع پر خط لکھا : حمد و ثنا کے بعد ! مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے تذکرہ کیا ہے کہ لوگ آپ سے مال غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے ہیں اور جو اللہ نے آپ پر لوٹایا ہے جب میرا خط آپ کے پاس آئے تو دیکھنا، جو لوگوں نے آپ کے پاس مال جمع کروایا ہے اس کو موجود مسلمانوں کے اندر تقسیم کردیں۔ زمینیں اور نہریں مال کے لیے چھوڑ دیں، یہ مسلمانوں کے لیے عطیہ ہوں گے۔ اگر آپ نے موجود لوگوں کے اندر ہی تقسیم کردیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔