(١٨٣٧٠) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَقْسِمْ أَہْلَ السَّوَادِ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَرَ بِہِمْ أَنْ یُحْصَوْا فَوَجَدُوا الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ یُصِیبُہُ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الْفَلاَّحِینَ یَعْنِی الْعُلُوجَ فَشَاوَرَ أَصْحَابَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ذَلِکَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعْہُمْ یَکُونُونَ مَادَّۃً لِلْمُسْلِمِینَ فَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ فَوَضَعَ عَلَیْہِمْ ثَمَانِیَۃً وَأَرْبَعِینَ وَأَرْبَعَۃً وَعِشْرِینَ وَاثْنَیْ عَشَرَ ۔
[ضعیف ]
(١٨٣٧٠) حضرت عمرو (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا ارادہ کیا اور ان کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو شمار کیا جائے۔ انھوں نے ایک مسلم آدمی کو پایا جس کے حصہ میں تین گا وخر آئے تھے۔ صحابہ نے اس کے بارے مشورہ کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : آپ چھوڑ دیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے عطیہ ہے۔ اس نے عثمان بن حنیف کو بھیجا جنہوں نے ان کی قیمت 1 ٤٨ 2 ٤٣ 3 ١٢ مقرر کی۔