(١٨٣٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : کُنَّا رُبُعَ النَّاسِ یَوْمَ الْقَادِسِیَّۃِ فَأَعْطَانَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رُبُعَ السَّوَادِ فَأَخَذْنَاہُ ثَلاَثَ سِنِینَ ثُمَّ وَفَدَ جَرِیرٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا قُسِمَ لَکُمْ فَأَرَی أَنْ تَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَفَعَلَ وَأَجَازَہُ بِثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح ]
(١٨٣٧٨) قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے دن ہمارے چوتھائی لوگوں کو حضرت عمر (رض) نے سواد کا چوتھائی حصہ عطا کردیا۔ ہم نے تین سال تک جزیہ وصول کیا۔ اس کے بعد جریر بن عبداللہ کا وفد حضرت عمر (رض) کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا : اگر مجھے تقسیم کے بارے میں پوچھے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی تقسیم پر باقی رکھتا۔ لیکن میرے خیال میں تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو ۔ انھوں نے ایسا کرلیا تو اسی دینار کی ان لیے اجازت دے دی گئی۔