(١٨٣٧٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : أَعْطَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَرِیرًا وَقَوْمَہُ رُبُعَ السَّوَادِ فَأَخَذَہُ سَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّ جَرِیرًا وَفَدَ إِلَی عُمَرَ مَعَ عَمَّارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا جَرِیرُ لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ وَلَکِنْ أَرَی أَنْ تَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِمْ وَأَعْطَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٣٧٩) قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جریر اور اس کی قوم کو سواد کا چوتھائی حصہ عطا کردیا۔ انھوں نے دو یا تین سال جزیہ وصول کیا، پھر جریر اور عمار بن یاسر حضرت عمر (رض) کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا : اے جریر ! اگر تقسیم کے بارے میں مجھ سے سوال کیا نہ جاتا تو میں تمہیں اسی حالت پر برقرار رکھتا۔ لیکن اب تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو تو جریر نے سواد کا چوتھائی حصہ واپس کردیا، اس کے عوض حضرت عمر (رض) نے انھیں اسی دینار عطا کیے۔