(١٨٣٨٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِجَرِیرٍ : ہَلْ لَکْ أَنْ تَأْتِیَ الْعِرَاقَ وَلَکَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ کُلِّ أَرْضٍ وَشَیْئٍ ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالَّذِی قَبْلَہُ مَوْصُولٌ وَلَیْسَ فِی الآثَارِ الَّتِی رَوَیْنَاہَا وَلَمْ نَرْوِہَا فِی سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحَّ مِنْہُ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ دَلاَلَۃٌ إِذْ أَعْطَی جَرِیرًا الْبَجَلِیَّ عِوَضًا مِنْ سَہْمِہِ وَالْمَرْأَۃَ عِوَضًا مِنْ سَہْمِ أَبِیہَا أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِینَ أَوْجَفُوا عَلَیْہِ فَتَرَکُوا حُقُوقَہُمْ مِنْہُ فَجَعَلَہُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِینَ وَہَذَا حَلاَلٌ لِلإِمَامِ لَوِ افْتَتَحَ الْیَوْمَ أَرْضَ عَنْوَۃٍ فَأَحْصَی مَنِ افْتَتَحَہَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِہِمْ مِنْہَا أَنْ یَجْعَلَہَا الإِمَامُ وَقْفًا وَحُقُوقُہُمْ مِنْہَا الأَرْبَعَۃُ الأَخْمَاسِ وَیُوفِی أَہْلَ الْخُمُسِ حَقَّہُمْ إِلاَّ أَنْ یَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْہُمْ حُقُوقَہُمْ فَیَکُونُ ذَلِکَ لَہُ وَالْحُکْمُ فِی الأَرْضِ کَالْحُکْمِ فِی الْمَالِ وَقَدْ سَبَی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَۃَ الأَخْمَاسِ بَیْنَ الْمُوجِفِینَ ثُمَّ جَائَ تْہُ وُفُودُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِینَ فَسَأَلُوہُ أَنْ یَمُنَّ عَلَیْہِمْ بِأَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ مِنْہُمْ فَخَیَّرَہُمْ بَیْنَ الأَمْوَالِ وَالسَّبْیِ فَقَالُوا خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا فَتَرَکَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَقَّہُ وَحَقَّ أَہْلِ بَیْتِہِ وَسَمِعَ بِذَلِکَ الْمُہَاجِرُونَ فَتَرَکُوا لَہُ حُقُوقَہُمْ وَسَمِعَ بِذَلِکَ الأَنْصَارُ فَتَرَکُوا لَہُ حُقُوقَہُمْ وَبَقِیَ قَوْمٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الآخِرِینَ وَالْفَتْحِیِّینَ فَأَمَرَ فَعُرِّفَ عَلَی کُلِّ عَشْرَۃٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ : ائْتُونِی بِطِیبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِیَ فَمَنْ کَرِہَ فَلَہُ عَلَیَّ کَذَا وَکَذَا مِنَ الإِبِلِ ۔ إِلَی وَقْتٍ ذَکَرَہُ فَجَائُ وہُ بِطِیبِ أَنْفُسِہِمْ إِلاَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّہُمَا أَبَیَا لِیُعَیِّرَا ہَوَازِنَ فَلَمْ یُکْرِہْہُمَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی ذَلِکَ حَتَّی کَانَا ہُمَا تَرَکَا بَعْدُ بِأَنْ خُدِعَ عُیَیْنَۃُ عَنْ حَقِّہِ وَسَلَّمَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُہُ عَنْ حَقِّہِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَہَذَا أَوْلَی الأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَنَا فِی السَّوَادِ وَفُتُوحِہِ إِنْ کَانَتْ عَنْوَۃً وَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ مِنْ أَمْرِ ہَوَازِنَ قَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ ۔ [ضعیف ]
(١٨٣٨٠) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جریر سے کہا : کیا آپ عراق میں میرے پاس آسکتے ہیں ؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد تمام زمین سے دیا جائے گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصہ کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصہ کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انھوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کسی زمین کو فتح کرے تو فاتحین میں تقسیم کر دے اور وہ اپنی خوشی سے امام کے لیے وقف کردیں اور خمس بھی مکمل ادا کیا جائے۔ وگرنہ بالغ لوگ اپنے حصے چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ بھی امام لے سکتا ہے اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کردیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انھوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انھوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے۔ ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار نے سنا تو انھوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، باقی لوگوں پر دس میں سے ایک شخص کو مقرر کردیا کہ مجھے خبر دو ۔ وگرنہ اتنے اتنے ادا کیے جائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وقت کا تعین فرما دیا، اقراع بن حابس اور عیینہ بن بدر کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ بھی دیا۔ عیینہ نے بھی اپنا حق دل کی خوشی سے چھوڑ دیا تھا۔