(۱۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ جَدِّہِ مَمْطُورٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-کَانَ یَقُولُ: ((الطُّہُورُ شَطْرُ الإِیمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ تَمْلأُ الْمِیزَانَ ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ وَاللَّہُ أَکْبَرُ تَمْلأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ، وَالصَّوْمُ جُنَّۃٌ ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُہَا أَوْ مُوبِقُہَا))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ حَبَّانَ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ یَزِیدَ الْعَطَّارِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۲۳]
(١٨٥) سیدنا ابو مالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : ” صفائی نصف ایمان ہے اور الحمدللہ (کا ثواب) ترازوکو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ، اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتے ہیں اور روزہ ڈھال ہے، صبر روشنی ہے، صدقہ دلیل ہے اور قرآن یا تیرے لیے حجت ہوگا یا تیرے خلاف۔ ہر انسان اپنے نفس کا سودا کرتا ہے یا اس کو آزاد کردیتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے۔