(١٨٤١٥) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی سَعْدٍ یُقْطِعُ سَعِیدَ بْنَ زَیْدٍ أَرْضًا فَأَقْطَعَہُ أَرْضًا لِبَنِی الرُّفَیْلِ فَأَتَی ابْنُ الرُّفَیْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا صَالَحْتُمُونَا ؟ قَالَ : عَلَی أَنْ تُؤَدُّوا إِلَیْنَا الْجِزْیَۃَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ وَأَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ ۔ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَقْطَعْتَ أَرْضِی لِسَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ۔ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی سَعْدٍ رُدَّ عَلَیْہِ أَرْضَہُ ثُمَّ دَعَاہُ إِلَی الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ فَفَرَضَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبْعَمِائَۃٍ وَجَعَلَ عَطَائَ ہُ فِی خَثْعَمَ وَقَالَ إِنْ أَقَمْتَ فِی أَرْضِکَ أَدَّیْتَ عَنْہَا مَا کُنْتَ تُؤَدِّی۔
وَہَذَا فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ فَإِنْ ثَبَتَ کَانَ قَوْلُہُ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ أَرَادَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمُ الَّتِی کَانَتْ لَکُمْ تَزْرَعُونَہَا وَتُعْطُونَ خَرَاجَہَا وَذَلِکَ فِیمَا أُخِذَ عَنْوَۃً أَلاَ تَرَاہُ لَمْ یُسْقِطْ عَنْہُ خَرَاجَہَا حِینَ أَسْلَمَ وَفِی الصُّلْحِ یَسْقُطُ ۔ [ضعیف ]
(١٨٤١٥) بنو زہرہ کے ایک شیخ حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت سعد کو لکھا کہ سعید بن زید کو کچھ زمین عطا کرو تو انھوں نے رفیل کی زمین دے دی۔ بنو رفیل حضرت عمر (رض) کے پاس آگئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! کس بات پر تم نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے ؟ فرمانے لگے کہ تم جزیہ ادا کرو۔ زمین، مال، اولاد تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! کیا آپ نے میری زمین سعید بن زید کو دے دی ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے سعد کو لکھا کہ اس کی زمین واپس کر دو ۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس پر سات سو جزیہ مقرر فرما دیا اور اس کی زمین خثعم قبیلہ کو عطا کردی اور فرمایا : اگر تم اپنی زمین پر رہے تو اتنا جزیہ ادا کرتے رہنا جتنا دیا کرتے تھے۔
(ب) یہ قول { وَلَکُمْ اَرَضْنَاکُمْ } وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے۔