(١٨٤١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیَّ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ فَضَعْ عَنْ أَرْضِی الْخَرَاجَ فَقَالَ لاَ إِنَّ أَرْضَکَ أُخِذَتْ عَنْوَۃً ۔ قَالَ : وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا یُطِیقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَکْثَرَ مِمَّا عَلَیْہِمْ فَقَالَ : لاَ سَبِیلَ إِلَیْہِمْ إِنَّمَا صَالَحْنَاہُمْ صُلْحًا۔ [ضعیف ]
(١٨٤١٦) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، جزیہ ختم کر دو ۔ فرمایا : نہیں آپ کی زمین بذریعہ لڑائی حاصل کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : دوسرا شخص آیا کہ فلاں زمین والے زیادہ خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ فرمایا : ہم نے اسی پر ان سے صلح کی ہے۔