(١٨٤٢٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : کُنْتُ أَبْطَنَ شَیْئٍ بِالْمُخْتَارِ یَعْنِی الْکَذَّابَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : دَخَلْتَ وَقَدْ قَامَ جِبْرِیلُ قَبْلُ مِنْ ہَذَا الْکُرْسِیِّ قَالَ فَأَہْوَیْتُ إِلَی قَائِمِ السَّیْفِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَظِرُ أَنْ أَمْشِیَ بَیْنَ رَأْسِ ہَذَا وَجَسَدِہِ حَتَّی ذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِیہِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا آمَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَی دَمِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ رُفِعَ لَہُ لِوَائُ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَکَفَفْتُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
(١٨٤٢٣) رفاعہ بن شداد کہتے ہیں : میں نے کپڑے کے نیچے مختار (کذاب) کے لیے کوئی چیز چھپائی۔ کہتے ہیں : میں ایک دن اس کے پاس گیا اس نے کہا : تو آیا ہے، جبرائیل (علیہ السلام) اس کرسی پر پہلے کھڑا تھا تو میں تلوار کے دستے کی جانب جھکا۔ میں نے کہا کہ میں اسے مہلت نہ دوں گا یہاں تک کہ میں اس کے سر اور جسم کے درمیان چلوں۔ لیکن پھر مجھے عمرو بن حمق خزاعی کی حدیث یاد آگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جب کوئی شخص کسی فرد کو جان کی امان دے کر قتل کر دے تو قیامت کے دن اس کے لیے عہد شکنی کا جھنڈا لگایا جائے گا تو میں اس سے رک گیا۔