(١٨٤٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ خَرَجَتْ سَرِیَّۃٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَہُ غَنَمٌ یَرْعَاہَا فَجَائُ وا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَلَّمَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یُکَلِّمَہُ بِہِ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : إِنِّی قَدْ آمَنْتُ بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ فَکَیْفَ بِالْغَنَمِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَہِیَ لِلنَّاسِ الشَّاۃُ وَالشَّاتَانِ وَأَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ : احْصُبْ وُجُوہَہَا تَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہَا ۔ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنْ حَصْبَائٍ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَی بِہِ وُجُوہَہَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّی دَخَلَتْ کُلُّ شَاۃٍ إِلَی أَہْلِہَا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَی الصَّفِّ فَأَصَابَہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ وَلَمْ یُصَلِّ لِلَّہِ سَجْدَۃً قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَدْخِلُوہُ الْخِبَائَ ۔ فَأُدْخِلَ خِبَائَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : لَقَدْ حَسُنَ إِسْلاَمُ صَاحِبِکُمْ لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَإِنَّ عِنْدَہُ لَزَوْجَتَیْنِ لَہُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ۔
لَمْ أَکْتُبْہُ مَوْصُولاً إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ وَقَدْ تَکَلَّمُوا فِیہِ ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ فِیہِ قِصَّۃٌ شَبِیہَۃٌ بِہَذِہِ إِلاَّ أَنَّہَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ ۔ [ضعیف ]
(١٨٤٢٤) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انھوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا : میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول ! بکریوں کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ نے فرمایا : تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو خیمے میں داخل کر دو تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔