hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18431

.

سنن البيهقي

18431
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٤٢٥) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ تَاجِرًا إِلَی الشَّامِ وَکَانَ رَجُلاً مَأْمُونًا وَکَانَتْ مَعَہُ بَضَائِعُ لِقُرَیْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلاً فَلَقِیَہُ سَرِیَّۃٌ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَاقُوا عِیرَہُ وَأَفْلَتَ وَقَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَہُ بَیْنَہُمْ وَأَتَی أَبُو الْعَاصِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَاسْتَجَارَ بِہَا وَسَأَلَہَا أَنْ تَطْلُبَ لَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَدَّ مَالِہِ عَلَیْہِ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّرِیَّۃَ فَسَأَلَہُمْ فَرَدُّوا عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَأَدَّی عَلَی النَّاسِ مَا کَانَ مَعَہُ مِنْ بَضَائِعِہِمْ حَتَّی إِذَا فَرَغَ قَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ہَلْ بَقِیَ لأَحَدٍ مِنْکُمْ مَعِی مَالٌ لَمْ أَرُدَّہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوا : لاَ فَجَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا قَدْ وَجَدْنَاکَ وَفِیًّا کَرِیمًا۔ فَقَالَ : أَمَّا وَاللَّہِ مَا مَنَعَنِی أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّی إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لأَذْہَبَ بِأَمْوَالِکُمْ فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ یُؤَمِّنُوہُ وَلَمْ یَأْخُذُوا عَلَیْہِ أَنَّہُمْ آمِنُونَ مِنْہُ فَلَہُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِفْسَادُہُ وَالْہَرَبُ مِنْہُمْ ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَا حَدِیثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَرْأَۃِ الْمُسْلِمَۃِ الَّتِی أَخَذَتِ النَّاقَۃَ وَہَرَبَتْ عَلَیْہَا۔ [ضعیف ]
(١٨٤٢٥) عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلا اور یہ ایسا شخص تھا جس کو امان حاصل تھی۔ اس کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر نے اس قافلے کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کردیا اور مال آپس میں تقسیم کرلیا۔ ابو العاص نے حضرت زینب کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انھوں نے مال واپس کردیا۔ ابو العاص نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کردیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے : اے قریش کے گروہ ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔ پھر کہا : میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
امام شافعی (رح) مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں : جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسب قدرت لے سکتا ہے خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔