(١٨٤٢٧) قَالَ الشَّیْخُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَذَکَرَ حَدِیثَ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَذَکَرَ فِیہِ قِصَّۃَ أَبِی جَنْدَلٍ وَأَبِی بَصِیرٍ بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا وَأَتَمَّ مِنْہُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبَا جَنْدَلٍ إِلَیْہِمْ لأَنَّہُ کَانَ لاَ یُخَافُ عَلَیْہِ فِی الرَّدِّ لِمَکَانَ أَبِیہِ وَکَذَلِکَ أَشَارَ عَلَی أَبِی بَصِیرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَیْہِمْ فِی الاِبْتِدَائِ لِذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَسَیَرِدُ کَلاَمُ الشَّافِعِیِّ إِنْ شَائَ اللَّہُ عَلَیْہِ فِی کِتَابِ الْجِزْیَۃِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٣٤٢]
(١٨٤٢٧) مسور بن مخرمہ (رض) اور مسروق بن حکم (رض) نے حدیبیہ کی صلح حدیث ذکر کی۔ اس میں ابو جندل (رض) ، اور ابو بصیر (رض) کا واقع ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ابو جندل (رض) کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ مرتد ہونے کا خطرہ نہ تھا اور اس طرح ابتداء میں ابو بصیر (رض) کو واپس کردیا تھا۔