(١٨٤٢٨) وَفِی مِثْلِ ہَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی رَافِعٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ أَقْبَلَ بِکِتَابٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُلْقِیَ فِی قَلْبِیَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَاللَّہِ لاَ أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنِّی لاَ أَخِیسُ بِالْعَہْدٌ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَکِنِ ارْجِعْ فَإِنْ کَانَ فِی قَلْبِکَ الَّذِی فِی قَلْبِکَ الآنَ فَارْجِعْ ۔ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُکَیْرُ وَأَخْبَرَنِی أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا۔ [صحیح ]
(١٨٤٢٨) ابو رافع (رض) فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں : جب میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہوگیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں واپس نہ جاؤں گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔ کہتے ہیں : میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہوگیا اور ابو رافع (رض) قبطی آدمی تھا۔