(١٨٤٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی : حُسَیْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِیدُہُ مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ فَأَخَذُوا عَلَیْنَا عَہْدَ اللَّہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ فَقَالَ : انْصَرِفَا نَفِی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ بِاللَّہِ عَلَیْہِمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا لأَنَّہُ لَمْ یُؤَدِّ انْصِرَافُہُمَا إِلَی تَرْکِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ یَکُنْ خُرُوجُہُمَا وَاجِبًا عَلَیْہِمَا وَلاَ إِلَی ارْتِکَابِ مَحْظُورٍ وَالْعَوْدُ إِلَیْہِمْ وَالإِقَامَۃُ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ مِمَّا لاَ یَجُوزُ إِذَا کَانَ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی نَفْسِہِ فِی الْعَوْدِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٧]
(١٨٤٢٩) حذیفہ بن یمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حیل نامی جگہ گئے تو کفار قریش نے پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا : تم مکہ کا ارادہ رکھتے ہو۔ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انھوں نے ہم سے وعدہ لیا کہ وہ مدینہ جائیں گے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملکر لڑائی نہ کریں گے۔ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آ کر بتایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے۔
شیخ فرماتے ہیں : قرض کے ترک کی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوئے۔ جب ان پر نکلنا بھی فرض نہ تھا اور نہ ہی انھوں نے حرام کا ارتکاب کیا۔ قیام وقعود میں ان کے لیے فتنہ کا ڈر تھا۔