(۱۸۴۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی أَبِی زَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَہُوَ جَالِسٌ قَالَ وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ فَصَلَّی بِنَا وَکَانَ أَعْرَجَ أُصِیبَ رِجْلُہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ تَعَالَی۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ یُکْرَہُ أَنْ یُؤَذِّنَ قَاعِدًا إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ۔ [ضعیف]
(١٨٤٤) (الف) حسن بن محمد سے روایت ہے کہ میں ابو زید انصاری کے پاس گیا، انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور ہمیں نماز پڑھائی اور وہ لنگڑا تھا، اس کا پاؤں اللہ کے راستے میں زخمی ہوگیا تھا۔
(ب) عطاء بن أبی رباح سے منقول ہے کہ وہ ناپسند سمجھتے تھے کہ اذان بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دے۔