hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 18479

.

سنن البيهقي

18479
Sunan Al Bayhaqi
(١٨٤٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقِتَالِہِ فِی غَزْوَۃِ مُؤْتَۃَ قَالَ وَہُوَ یَقُولُ : یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقْتِرَابُہَا طَیِّبَۃٌ بَارِدَۃٌ شَرَابُہَا وَالرُّومُ رُومٌ قَدْ دَنَا عَذَابُہَا عَلَیَّ إِنْ لاَقَیْتُہَا ضِرَابُہَا وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ رَوَاحَۃَ قَالَ حِینَ أَخَذَ الرَّایَۃَ یَوْمَئِذٍ : أَقْسَمْتُ یَا نَفْسِ لَتَنْزِلِنَّہْ طَائِعَۃً أَوْ لَتُکْرَہِنَّہْ إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّہْ مَا لِی أَرَاکِ تَکْرَہِینَ الْجَنَّہْ قَدْ طَالَ مَا قَدْ کُنْتِ مُطْمَئِنَّہْ ہَلْ أَنْتِ إِلاَّ نُطْفَۃٌ فِی شَنَّہْ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَالَ أَیْضًا : یَا نَفْسِ إِلاَّ تُقْتَلِی تَمُوتِی ہَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِیتِ وَمَا تَمَنَّیْتِ فَقَدْ أُعْطِیتِ إِنْ تَفْعَلِی فِعْلَہُمَا ہُدِیتِ وَإِنْ تَأَخَّرْتِ فَقَدْ شَقِیتِ یُرِیدُ جَعْفَرًا وَزَیْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ ثُمَّ أَخَذَ سَیْفَہُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
(١٨٤٧٣) ابن اسحاق غزوہ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کا قصہ ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں :
اے جنت تو ان کے قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حضرم کہتے ہیں : جب عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے :
اے جان ! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی یا کراہت سے لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالت اطمینان میں زندگی گزاری تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا۔
اے جان ! اگر تو قتل کردی گئی تو فوت ہوجائے گی۔ یہ موت کا چشمہ ہے جس کو تو ملی ہے اور جو تو نے خواہش کی تجھے دیا گیا۔ اگر تو نے یہ دونوں کام کرلیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ جعفر اور زید کا تھا۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کردیے گئے۔